Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کی قراءت کی آواز دوسرے تک جائے تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اگر نمازی اتنی آواز سے قراءت کر رہا ہے کہ شور و غل یا اونچا سننے کا عارضہ نہ ہو، تو نمازی کے خود اپنے کان سُن لیں اور اب اس کے برابر میں ہی کوئی نماز پڑھ رہا ہے جس کے سبب پاس والے نمازی کو بھی اُس کی ہلکی ہلکی آواز پہنچتی ہے ، تو ظاہر ہے کہ جو آواز اپنے کان تک آنے کے قابل ہو گی وہ برابر والے کو بھی پہنچے گی، اس سے بچنا مشکل ہے۔ عام طور پر چونکہ مساجد میں خاموشی ہوتی ہے اور بالخصوص جب سردیوں میں پنکھے بھی بند ہوں تو خاموشی اور زیادہ ہو جاتی ہے ،اس صورتحال میں پاس کھڑے نمازی کی ہلکی سی آواز بھی تیز معلوم ہوتی ہے ، ہاں اگر کوئی واقعی اتنی تیز آواز سے قراءت کر رہا ہو کہ جس کی وجہ سے آس پاس کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.