Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی سے پڑھنے کے لیے کتاب لی، تو گم ہونے پر تاوان ہوگا؟

Answer (beginning)

شریعت مطہرہ میں بلاعوض کسی شخص کو اپنی چیز کی منفعت کا مالک کر دینا، عاریت کہلاتا ہے اور عاریت کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز مستعیر ( عاریتاً چیز لینے والے) کے پاس امانت ہوتی ہے۔ اگر وہ چیز چوری یا گم ہو جائے، تو مستعیر پر اس چیز کا تاوان لازم ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے شرعی اصول یہ ہے کہ اگر عاریتاً لینے والے کی غفلت اور کو تاہی کی وجہ سے وہ چیز ہلاک (ضائع، چوری یا گم ) ہوئی، تو اس کا ذمہ دار مستعیر ہی ہو گا، اگر چہ یہ غفلت غلطی یا بھولے سے ہی کیوں نہ واقع ہوئی ہو، البتہ اگر مستعیر نے اس چیز کی حفاظت میں کسی طرح کی غفلت اور کو تاہی کا مظاہرہ نہ کیا، بلکہ اس کو سنبھال کر رکھا، پھر بھی وہ چیز ہلاک…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.