Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ملکیت میں گھر ہو اور کرایہ پر دیا ہو تو حج کی فرضیت کا حکم؟
Answer (beginning)
بیان کر دہ صورت میں آپ کے والد پر حج فرض نہیں ہے کہ حج کے فرض ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ وہ شخص حاجت سے زائد اتنے مال کا مالک ہو جو حج کے لیے آنے جانے ، وہاں کھانے پینے اور رہائش کے ضروری اخراجات، نیز اتنی مدت کے لیے اس کے اہل و عیال کے نان و نفقہ کے اخراجات کو کافی ہو ، اور پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد صاحب نے جو گھر کرائے پر دیا ہوا ہے، اس کی آمدن پر آپ لوگوں کا گزر بسر موقوف ہے ، اس وجہ سے وہ مکان حاجت سے زائد شمار نہیں کیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.