Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دم کیا ہوا پانی قبر پر ڈالنا کیسا؟
Answer (beginning)
متبرک چیزوں کو حصولِ برکت کے لیے استعمال میں لانا مسلمانوں میں شروع سے رائج ہے اور آيات قرآنيه يا سورۃ الملک کا دم کیا ہوا پانی بلاشبہ بابرکت ہے، لہذا قبر پر دم کیا ہوا پانی ڈالنا جائز ہے، یہ اسراف شمار نہیں ہو گا۔ اسراف شمار نہ ہونے کی تفصیل: قبر پر پانی ڈالنے کے حوالے سے شریعت مطہرہ میں بڑے واضح احکام موجود ہیں: (1) تدفین کے بعد قبر پر پانی چھڑکنا سنت ہے ، نبی پاک صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے اپنے شہزادے حضرت ابراہیم رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ اور حضرت سعد رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر مبارک پر پانی چھڑ کا، حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.