Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والد اپنے نابالغ بیٹے کا سونا قرض لے سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
جب تک اس نابالغ کے والد کو ایسی کوئی ضرورت و حاجت پیش نہ آئے کہ وہ سونا خرچ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہو، مثلاً : کھانے پینے کے لیے مال کی ضرورت ہو اور فی الحال والد کے پاس مال نہ ہو ، اس وقت تک وہ سونا اپنے کام میں خرچ کرنے کی شرعاً اجازت نہیں، اگر چہ نیت یہ ہو کہ اس بچے کے بالغ ہونے کے بعد میں اتنا سونا اسے لوٹا دوں گا۔ تفصیل درج ذیل ہے: نابالغ کا موجودہ سونا بعد میں اسی کی مثل لوٹانے کی نیت سے لینا، قرض کا معاملہ ہے، جو ضر ر محض ہے اور شرعی قاعدہ ہے کہ جس تصرف سے نابالغ کو محض ضرر ہو ، ایسا تصرف اس کا ولی بھی نہیں کر سکتا، در مختار میں ہے: ” (إن ضارا كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.