Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بطور وراثت ملے مال تجارت پر زکوة فرض ہوگی؟

Answer (beginning)

وہ پلاٹ زید کے والد کے پاس تجارت کی نیت سے تھا، تو وہ زید کو وراثت میں ملنے کے بعد اس کے حق میں بھی تجارت کا مال ہی شمار ہوگا اور چونکہ زید پہلے سے ہی اپنے تجارتی مال اور رقم وغیرہ کی وجہ سے صاحب نصاب ہے اور اس کی زکوۃ کا سال چل رہا ہے ، تو جیسے ہی وہ زکو کا سال پورا ہو گا، دیگر اموال کے ساتھ ساتھ اس پلاٹ کی زکوۃ ادا کرنا بھی فور ضروری ہو جائے گا۔ اس پلاٹ کا الگ سے سال شمار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ دوران سال جب زکوۃ کے مال کی جنس سے کوئی مال ملے ، 17 تو وہ بھی پہلے والے مال کے ساتھ لاحق ہو جاتا ہے اور اس کا سال بھی دیگر اموال کے ساتھ ہی شمار ہوتا ہے(بشر طیکہ ایک مال پر دو مر تبہ زکوۃ دینا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.