Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عیب نہ ہونے کی شرط پر گاڑی خریدی اور بعد میں عیب ظاہر ہوا، تو حکم

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں آپ زید کو نہ تو گاڑی واپس کر سکتے ہیں اور نہ ہی گاڑی کے پینٹ ہونے کے عیب سے جو قیمت میں نقصان ہوا ہے ، وہ واپس لے سکتے ہیں۔ تفصیل یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں جو چیز تاجروں کے عرف میں قیمت میں کمی کا سبب بنے وہ عیب کہلاتی ہے ، گاڑی کا پینٹ ہونا، اس کی قیمت میں کمی کا سبب بنتا ہے ،لہذا یہ ایک عیب ہے اور شریعت 1 نے عیب کی وجہ سے چیز واپس کرنے کا خریدار کو اختیار دیا ہے، بشر طیکہ خریدار نے عیب پر مطلع ہو کر فوراً چیز واپس کر دی ہو ، استعمال نہ کی ہو اور اگر خریدار عیب پر مطلع ہونے کے باوجود شے میں مالکانہ تصرف کر تا رہا، تو اب اسے چیز واپس کرنے یا نقصان وصول کرنے کا اختیار…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.