Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کی طرف منہ کرنے کا حکم؟ تفصیلی فتویٰ

Answer (beginning)

جو شخص نماز پڑھ رہا ہو اس کے سامنے کسی دوسرے شخص کامنہ کرنا، مکروہ تحریمی ،ناجائز و گناہ ہے ، وہ نماز پڑھنے والا منفر د ہو یا مسبوق ، دونوں صورتوں میں یہی حکم ہے ، نیز امام کے لیے نماز کے بعد 1 نمازیوں کی طرف منہ کرنے کی اجازت بھی اسی صورت میں ہے، جبکہ اس کے سامنے کوئی مسبوق اپنی نماز نہ پڑھ رہا ہو ، لہذا اگر کوئی اس کے محاذات میں نماز پڑھ رہا ہو ، اگر چہ وہ آخری صف میں ہی ہو ، اگر چہ اگلی صفوں میں لوگ بیٹھے ہوئے ہوں ، بہر صورت امام کا نماز پڑھنے والے کی طرف منہ کرنا، جائز نہیں، یہی قول ظاہر الروایہ کے مطابق ، راجح و مفتی بہ ہے ، کیونکہ اس صورت میں جب نمازی قیام کرے گا، تو لا محالہ اس کا امام…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.