Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سونے کے لیے تیمم کرنا کیسا جبکہ پانی موجود ہو ؟ تفصیلی فتوی

Answer (beginning)

ایک اور مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَةُ الله تَعَالى عَلَيْهِ لکھتے ہیں: ”پانی نہ ہونے کی حالت میں بے وضو نے مسجد میں ذکر کے لیے بیٹھنے بلکہ مسجد میں سونے کے لیے کہ سرے سے عبادت ہی نہیں یا پانی ہوتے ہوئے سجدہ تلاوت یا سجده شکر یا مس مصحف یا باوجود وسعتِ وقت نماز پنجگانہ یا جمعہ یا جنب نے تلاوت قرآن کے لیے تیم کیا لغو وباطل و ناجائز ہو گا کہ ان میں سے کوئی بے بدل فوت نہ ہو تا تھا، یو نہی ہماری تحقیق پر (یہ تحقیق فتاوی رضویہ جلد 3، صفحہ 429 پر موجود ہے) تہجد یا چاشت یا چاند گہن کی نماز کے لیے اگر چہ اُن کا وقت جاتا ہو کہ یہ نفل محض ہیں سنتِ مؤکدہ نہیں ، تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.