Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی وقف دکان عرف سے کم کرائے پر دینا کیسا؟

Answer (beginning)

(1) مسجد کی وقف دکان کو اجرت مثل ( یعنی اس جیسی دکان کا اس علاقے میں جو کرایہ چل رہا ہو، اس کے بدلے کرائے پر دینا جائز ہے، انتظامیہ کا وقفی دکان کو اجرت مثل سے کم کرائے کے بدلے دینا جائز نہیں ، اگر منتظم وغیرہ نے اس علاقے میں معروف و رائج کرایہ سے کم کرایہ پر دیا، تب بھی کرایہ دار پر لازم ہے کہ ہر ماہ اجرت مثل کے مطابق پورا کرایہ ادا کرے۔ 1 (2) منتظم کا خود وقفی دکان کو کرایہ پر لینا جائز نہیں ، نہ ہی اپنے والد یا اولاد کو دینا جائز ہے، البتہ اگر منتظم خود اجرت مثل سے زیادہ کرائے پر لے یا اپنے والد یا اولاد کو اجرت مثل سے زیادہ کرایہ پر دے تو جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.