Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زندہ مچھلی کے ٹکڑے کرنے اور اسے کھانے کا شرعی حکم

Answer (beginning)

مچھلی ایسا جانور ہے، جسے ذبح کرنے کی حاجت نہیں، لہذا اگر زندہ مچھلی سے کوئی حصہ جدا کر لیا یا اس کے ٹکڑے کر دیئے ، تو اسے کھانا حلال ہے، البتہ مچھلی والے کو چاہیے کہ اسے عمومی طریقے سے ذبح کر کے پیس بنائے کہ ہمیں ذبح میں اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور زندہ مچھلی کے کسی بھی حصے سے ٹکڑے کر دینا اچھے طریقے سے ذبح کرنے میں نہیں آتا۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "احلت لنا ميتتان و دمان فاما الميتتان فالحوت والجراد واما الدمان فالكبد والطحال“ ترجمہ : ہمارے لیے دو مرے ہوئے جانور اور دو خون حلال…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.