Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کمپنی مینیجر کا مال پاس کرنے کے لیے کمیشن لینا کیسا؟
Answer (beginning)
مال او کے (ok) کرنا، پاس کرنا مینیجر ز کے اجارے میں شامل ہے، لہذا ان پر لازم ہے کہ یہ دیانت داری کے ساتھ درست مال کو پاس کریں اور نادرست مال کو ریجیکٹ کر دیں۔ جو مال او کے ہونے کے لیے ان کے پاس آئے گا اس کی دو صورتیں ہوں گی : (1) یا تو وہ مال نادرست ہو گا۔ (2) یا درست ہو گا۔ (1) جو نا درست ہے اس کو پاس کرنا اپنے عہدے سے خیانت، جھوٹ اور اپنی کمپنی کو دھو کہ دینا ہے اور یہ سب ناجائز و حرام ہے اور اگر پیسے لے کر ایسے مال کو پاس کرے گا، تو یہ رشوت ہو گی کہ مال پاس کروانے والا اپنا کام نکلوانے کے لیے پیسے دے رہا ہے اور یہ لے رہا ہے اور رشوت دینا لینا باعث لعنت، ناجائز و حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.