Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اس شرط پر قرض دینا کہ مقروض اسے مارکیٹ سے کم ریٹ پر اشیاء بیچے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں زید کا عمرو کے ساتھ یوں معاہدہ کرنا کہ جب تک وہ عمرو کی رقم واپس نہیں کرے گا، اس وقت تک اسے مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر چاندی بیچتارہے گا، تو یہ شرعاً درست نہیں، بلکہ سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ تفصیل اس کی کچھ اس طرح ہے کہ زید عمرو سے اپنا کاروبار کرنے کے لیے جو ر قم لے رہا ہے ، اس کی شرعی حیثیت قرض کی ہے، کیونکہ ان دونوں کے درمیان یہ طے ہے کہ زید جتنی رقم لے رہا ہے ، اتنی ہی ) بعد میں واپس کرے گا، خواہ اسے اپنے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان اور قرض کی حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی کو کوئی چیز اس لیے دی جائے کہ بعد میں وہ اس کی مثل واپس کرے، لہذا زید کے پاس…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.