Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرائے پر دی ہوئی دوکانیں،مکان گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ؟
Answer (beginning)
چنانچہ قبضہ کے بغیر عقد بیع ( یعنی خرید و فروخت کا ایگریمنٹ) درست ہونے سے متعلق رد المحتار میں ہے : ” ان العقد في ذاته صحيح، غير أنه لا يجب على المشتري دفع الثمن لعدم القبض “ ترجمہ : (قبضہ کے بغیر ) خرید و فروخت کا معاملہ فی نفسہ درست ہے، البتہ قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے خریدار پر قیمت ادا کر نالازم نہیں ہو تا (اس لیے خرید و فروخت میں قبضہ ضروری ہوتا ہے)۔ 66 (رد المحتار على الدر المختار، کتاب البیوع، فصل فيما يدخل في البيع تبعاً، جلد7،صفحہ 97،مطبوعہ کوئٹه) امام اہلسنت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ” جب بیچ بنام ہندہ گواہوں سے ثابت ہے ، تو ملک ہندہ ثابت ہے اور قبضے کی بحث سرے سے لغو و بے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.