Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رشتہ دار کی پرانی قبر میں تدفین کا شرعی حکم
Answer (beginning)
پرانی قبر کھود کر دوسر ا مردہ اس میں دفن کرنا، میت کی بے حرمتی، ناجائز و گناہ ہے، یہ عذر کہ پرانے قبرستان میں آباء واجداد دفن ہیں، لہذا جو بھی رشتہ دار فوت ہو گا اس کو پرانے قبرستان میں ہی دفن کیا جائے گا، قابل قبول نہیں، اس عذر کی بناء پر کسی کی قبر کھودنا، جائز نہیں ہو گا۔ تمام ہی مسلمانوں پر لازم ہے کسی بھی پرانی قبر کو کھود کر میت کی بے حرمتی نہ کریں، اپنے مر دوں کو دور والے قبرستان میں ہی دفن کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.