Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بروکر کے ذریعے کیا ہوا سودا ختم ہوجانے کی صورت میں کمیشن اور بیعانہ کا حکم
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں زید نے جو چل پھر کر محنت و مشقت کر کے بکر اور خالد کے مابین مکان کا سودا مکمل کروا کر ایک فیصد کمیشن لیا تھا، وہ سودا ختم ہونے پر واپس نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ کمیشن سودا مکمل کروانے کے عوض قرار پایا تھا اور زید نے سودا مکمل کروادیا تھا، لہذاوہ کمیشن کا مستحق ہو گیا تھا، اب سوداختم ہونے سے زید کا کمیشن باطل نہیں ہو گا۔ بکر نے خالد سے جو بیعانہ لیا تھا، باہمی رضامندی سے سودا ختم ہونے کی بنا پر بکر پر بیعانہ واپس کرنالازم ہے، کیونکہ سوداختم ہونے سے بکر کو اس کا مکان واپس مل گیا، تو خالد کو اس کے پیسے واپس کرنے ہوں گے ،اگر بکر واپس نہیں کرے گا، تو غیر کا مال ناحق طریقے سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.