Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرکت پر کام کرنے کا جائز طریقہ!

Answer (beginning)

سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق کہ نفع و نقصان مال کے حساب سے تقسیم ہو گا، یہ شرکت ، جائز و درست ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ دونوں کے درمیان ہونے والی شرکت، شرکت عنان ہے اور قوانین شرعیہ کے مطابق شرکت عنان میں نفع برابر بھی ہو سکتا ہے ، مال کے حساب سے بھی ہو سکتا ہے اور باہمی رضا مندی سے زیادہ کام کرنے والے کے لیے زیادہ نفع بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، البتہ کام نہ کرنے والے کے لیے یا کم کام کرنے والے کے لیے زیادہ نفع مقرر کرنا، جائز نہیں ہو تا۔ اس طرح آپ دونوں کے درمیان نفع مال کے حساب سے تقسیم ہونے کی شرط جائز ودرست ہوئی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.