Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کفار کے استعمال شدہ کپڑے فروخت اور استعمال کرنے کا حکم؟
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں زید کے لیے یہ کاروبار کرنا، جائز ہے اور بکر کا اسے خلاف شرع بتانا درست نہیں، بلکہ قوانین شریعت کے خلاف ہے ، تفصیل اس کی یہ ہے کہ زید جب ڈیلروں سے سامان خریدتا ہے ، تو وہ اس کا مالک ہو جاتا ہے اور شریعت مطہرہ نے اپنی چیز سے نفع کمانے کی کوئی شرح مقرر نہیں کی، بندہ جتنے کی چاہے بیچے ، خریدار کی مرضی وہ خریدے یانہ خریدے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں جھوٹ اور دھوکے سے کام نہ لیا جائے، مثلاً: کسی چیز کے بارے میں یوں کہنا کہ میں نے اتنے کی خریدی ہے، حالانکہ اتنے کی نہیں خریدی ہوتی ، اسی طرح اس چیز کے عیب کو بیان کیے بغیر بیچ دینا یا بیچی گئی چیز کو بدل دیناوغیرہ وغیرہ کہ یہ سب…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.