Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محفل میلاد سے بچ جانے والے چندہ کا کیا کریں؟
Answer (beginning)
چندہ جس غرض کے لیے جمع کیا جائے، اسی میں خرچ کرنا ضروری ہوتا ہے ،اسے کسی دوسری غرض میں خرچ نہیں کر سکتے ، لہذا گیار ہو یں، بارہویں وغیرہ کی محفل کے لیے جمع کیا جانے والا چندہ اگر بچ جائے ، تو اسے کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کر سکتے بلکہ ضروری ہے کہ اگر دینے والے یا ان کے انتقال کر جانے کی صورت میں ان کے ورثا معلوم ہوں، تو بحصہ رسد ان کو دے دیں یا جس کام میں خرچ کرنے کی وہ اجازت دیں ، اسی میں خرچ کریں۔ ہاں اگر معلوم نہ ہوں تو بچ جانے والا وہ چندہ مثل مالِ لقطہ ہے اور کسی بھی نیک و جائز کام مثلاً کسی محفل یا مسجد و مدرسہ میں بھی خرچ کر سکتے ہیں اور کسی فقیر پر بھی صدقہ کر سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.