Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کی ابھی داڑھی نہیں آئی، ایسے بالغ لڑکے کی امامت کا حکم
Answer (beginning)
ایسا بالغ لڑکا جس کی ابھی داڑھی نہ آئی ہو ، وہ اگر امامت کا اہل ہو یعنی مسلمان ہو ، عاقل ہو ، بالغ ہو ، شرعی معذور نہ ہو، صحیح القراۃ، سنی صحیح العقیدہ ہو اور فاسق معلن نہ ہو، تو فرض و تراویح و غیرہ نقل و واجب نمازوں میں بالغ مردوں کی امامت کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ امامت کی صحت کا مدار دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ بلوغت پر ہے نہ کہ داڑھی کے موجود ہونے پر ،ہاں جو داڑھی منڈا تا یا ایک مٹھی سے کم کر تا ہو ، تو وہ چونکہ فاسق معلن ہے اور امام کے لیے فاسق معلن نہ ہونا بھی ضروری ہے، لہذا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنانا جائز اور جو پڑھی، اس کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.