Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر پر اُگنے والے ہَرے پودے کو کاٹنا کیسا ؟

Answer (beginning)

قبر پر اُگنے والے تر پودے کو وہاں سے ہٹانا منع ہے، کیونکہ یہ پودا جب تک تر رہتا ہے، اللہ عزوجل کی تسبیح کرتا ہے ، جس سے میت کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور اس کی تسبیح سے رحمت کا نزول ہو تا ہے، لہذا اس کے نوچنے میں میت کے حق کو ضائع کرنا ہے۔ فتاوی شامی میں ہے : " یکرہ قطع النبات الرطب والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر والدرر و شرح المنية، وعلله في الامداد بانه ما دام رطباً يسبح الله تعالى فيؤنس الميت و تنزل بذكره الرحمة، ونحوه في الخانية۔۔۔ لان فيه تفویت حق المیت یعنی قبر سے تر پودے اور تر گھاس کو کاٹنا مکروہ ہے نہ کہ خشک کو، جیسا کہ یہ مسئلہ بحر ، درر ، شرح منیہ میں مذکور ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.