Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا سنت ہے؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیر نا سنت ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ دعاما نگتے ہوئے گویا بندے کے ہاتھ خیر وبرکت سے بھر جاتے ہیں، تو اب حکم ہے کہ وہ خیر و برکت اپنے اعلیٰ و اشرف حصے یعنی چہرے پر الٹالے ، تاکہ اس کے ذریعے وہ خیر و برکت سارے بدن میں سرایت کر جائے۔ جامع ترمذی میں سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ” كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجه “ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے ، تو چہرہ انور پر ہاتھ پھیرے بغیر نیچے نہ کرتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.