Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ بچہ قسم توڑ دے ، تو کیا اس پر کفارہ ہوگا ؟

Answer (beginning)

نابالغ بچے یا بچی پر قسم کا کفارہ دینا لازم نہیں کیونکہ قسم منعقد ہونے کے لئے چند شرطیں ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو کفارہ نہیں اور ان میں سے ایک شرط بالغ ہونا بھی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ”منها ان يكون عاقلاً بالغاً فلا يصح يمين الصبي والمجنون وان كان عاقلا لانها تصرف ایجاب و هما ليس من اهل الايجاب " ترجمه قسم درست ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط قسم کھانے والے کا عاقل بالغ ہونا ہے۔ چنانچہ (نابالغ) بچہ اگر چہ عقلمند ہو اور پاگل کا قسم کھانا درست نہیں کیونکہ قسم کھانا کوئی چیز اپنے اوپر لازم کرنے کا اقدام ہے اور پاگل اور بچہ اس تصریف کے اہل نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.