Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ بچے کا بے وضو قرآنِ پاک چھونا کیسا ؟

Answer (beginning)

جو چھوٹے نابالغ بچے صبح و شام ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے مساجد میں آتے ہیں، انہیں قرآن دینے سے پہلے وضو کروانا چاہیے تا کہ انہیں وضو کا طریقہ آئے اور اس کی عادت بنے ، البتہ ان پر وضو کرنا فرض نہیں ہے، بے وضو بھی قرآن کو چھو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ابھی احکام شرع مثلا: وضو، غسل، نماز وروزے کے مکلف نہیں اور اگر بے وضو ہونے کی وجہ سے قرآن چھونے سے منع کیا جائے، تو یہ بچپنے کی وجہ سے وضو کرنے میں سستی کریں گے اور لا محالہ بالغ ہونے تک قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کو مؤخر کریں گے اور اگر ان کے بالغ ہونے کا انتظار کیا جائے، تو پھر قرآن پڑھنے ، حفظ کرنے میں کمی واقع ہو گی، جس بنا پر شریعت نے بچوں کو بے وضو قرآن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.