Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کے مال میں سے کھانا کھلانے نیز تیجے. دسویں چالیسویں کے کھانے کا حکم؟

Answer (beginning)

اصل سوال کے جواب سے پہلے تمہید یہ سمجھ لیں کہ عموماً رواج یہی ہے کہ کسی شخص کے فوت ہونے کے بعد چالیسویں تک کا کھانا اور مہمان داری وغیرہ کے مکمل اخراجات میت کے ترکہ میں سے ادا کیے جاتے ہیں اور ورثاء میں عاقل، بالغ ، مجنون اور نابالغ سب شامل ہوتے ہیں اور بعض اوقات سب ورثاء کی اتنے زیادہ خرچ پر رضامندی بھی نہیں ہوتی۔ جبکہ میت کے ترکہ میں سے ورثاء کی اجازت کے بغیر صرف کفن دفن بقدر سنت، تجهیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اس کے بعد بیچنے والے کل ترکہ کے تہائی تک جائز وصیت کے نفاذ کی اجازت ہے، اس کے علاوہ باقی اخراجات کے لیے میت کے عاقل بالغ ورثاء کے حصوں میں سے خرچ کرنے کے لیے ان کی اجازت ہونا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.