Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وراثت میں ملنے والی زمین پر قربانی کا حکم؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ان دور تا پر قربانی واجب ہو گی۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے مالِ وراثت ، مالِ شرکت ہوتا ہے اور مالِ شرکت میں جس شریک کا اس کی حاجت اصلیہ (یعنی جن چیزوں کے بغیر زندگی گزارنا دشوار ہوتا ہے، جیسے رہنے کا مکان ، پہننے کے کپڑے، کھانے کے لیے غلہ ، ضرورت کی سواری ، گھریلو استعمال کا ضروری سامان ، علمی مشاغل والے کے لیے دینی کتابیں جو اس کی ضرورت سے زیادہ نہ ہوں، پیشہ ور افراد کے لئے کام کاج کے اوزار وغیرہ) سے زائد حصہ تنہا یا اس کے دیگر حاجت اصلیہ سے زائد مال و سامان کے ساتھ مل کر قربانی کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو ، اس پر قربانی واجب ہوتی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.