Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جانور کی دیکھ بھال کی اجرت میں قربانی کا حصہ دینے کا حکم؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید اور عمرو کا یوں معاہدہ کرنا کہ عمرو کو بیلوں کی دیکھ بھال کرنے کے بدلے رقم کی بجائے انہی بیلوں میں سے قربانی کے لیے ایک حصہ دیا جائے گا، یہ شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ قفیز طحان ( اجیر نے جو کام کیا ہے، اس میں سے اس کو اجرت دینا ) ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ السنن الكبرى للبيهقی، سنن دار قطنی اور مسند ابی یعلی میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ، وہ فرماتے ہیں: ” نھی عن عسب الفرس وعن قفيز الطحان ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی جفتی کی اجرت اور قفیز طحان سے منع فرمایا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.