Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے لئے قرعہ اندازی کی شرعی حیثیت؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں یہ انعامی طریقہ کار جوا ہے ، جو بلا شک و شبہ ناجائز و حرام ہے ، کیونکہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلے گا، وہ تو انعام حاصل کرے گا اور جس کا نام نہیں نکلا، اس کے پچاس روپے ضائع ہو گئے ، تو یہ اپنے مال کو خطرے پر ڈالنا ہے کہ زیادہ نفع والی چیز ملے گی یا اپنا مال ہی چلا جائے گا اور جوا اسی کو کہتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ علم دین نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح قربانی جیسی عبادت والے کام میں بھی شیطان نے لوگوں کو حرام و گناہ میں مبتلا کر دیا ہے، لہذاد کاندار پر لازم ہے اس قرعہ اسکیم کو ختم کرے اور جس جس سے پچاس روپے بطور ٹوکن لیے ہیں، ان کو واپس کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.