Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عید و روزہ رمضان کا چاند دیکھ کر ہوگا؟
Answer (beginning)
(1) شریعت مطہرہ میں روزہ وعید وغیرہ کے معاملات کا مدار چاند کی رؤیت (دیکھنے) پر ہے کہ جب تک چاند نظر نہیں آئے گا، روزہ و عید وغیرہ نہیں ہوں گے ، کیونکہ اس کے لیے احادیث صحیحہ میں ” رؤیت (آنکھ سے دیکھنے ) “ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے لے کر آج تک اسے حقیقی طور پر دیکھنا ہی مراد لیا گیا ہے اور اسی پر عمل ہے، لہذاجب تک با قاعدہ چاند نہ دیکھ لیا جائے یا اس کا شرعی طور پر ثبوت نہ ہو جائے اس وقت تک قمری مہینا شروع نہیں ہو گا اگر چہ کلینڈر کے مطابق شروع ہو چکا ہو ، کیونکہ ہم قرآن و حدیث کے مکلف ہیں ، ماہرین فلکیات وغیرہ کی رائے کے پابند نہیں، لہذا عبادات کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.