Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اذان کے دوران سحری کھانے کی حدیث کی وضاحت

Answer (beginning)

بحکم قرآن سحری کرنے کی اجازت اس وقت تک ہے جب تک فجر یعنی صبح صادق طلوع نہ کرے ، جب فجر یعنی صبح صادق طلوع کر آئے اس کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا کھانا حرام ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اتقوا الصِّيَامَ إِلَى الَّيْل ترجمہ کنز الایمان: اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے سفید ی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پو پھٹ کر ) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.