Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قرض دار پر زکوة فرض ہے؟

Answer (beginning)

قرض کی جتنی اقساط باقی ہیں ان کو مالِ نصاب سے منہا کیا جائے گا، اب اگر یہ رقم اتنی ہے کہ جس کی وجہ سے مال ہی باقی نہیں رہتا، یا نصاب کی مقدار مال باقی نہیں رہتا، تو اس شخص پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی اور اگر نصاب کی مقدار مال باقی رہتا ہے ، تو دیگر شرائط ں ہوئیاور آگر کے ساتھ اس پر زکوۃ واجب ہو گی۔ یہ یادر ہے کہ سودی قرض لینا حرام ہے اور وہ رقم جو سود کی مد میں دی جائے گی ( نعوذ باللہ ) وہ قرض میں شامل نہیں اور وہ رقم نصاب سے منہا بھی نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.