Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ کے مہنگا ہوجانے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں جب زید نے تجارت کی نیت سے پلاٹ خریدا ، تو وہ پلاٹ مالِ تجارت ہو گیا اور چونکہ پلاٹ کی خرید و فروخت کے لیے ایجاب و قبول کرتے وقت زید اور پلاٹ کا مالک وہیں موجود تھے اور زید کو اس میں مالکانہ تصرفات کا مکمل طور پر اختیار بھی دے دیا گیا، تو شرعی طور پر اس پلاٹ پر زید کا قبضہ بھی ہو گیا، لہذازید پر اُس پلاٹ کی زکوۃ سال بہ سال فرض ہو گی، جبکہ قرض اور حاجات اصلیہ (ضرورت کی چیزوں مثلاً رہنے کا مکان، پہننے کے کپڑے وغیرہ)کو نکالنے کے بعد وہ مالکِ نصاب بنتا ہو اور ز کوۃ کی ادائیگی میں قیمت خرید کا اعتبار نہیں، بلکہ جس تاریخ کو زید کے نصاب پر قمری سال مکمل ہو رہا ہے، اُس دن کی قیمت کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.