Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کی تدفین میں تاخیر کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
کسی رشتہ دار کے آنے کے انتظار میں میت کی تدفین میں تاخیر کرنا، جیسا کہ بعض اوقات میت کا کوئی قریبی بیرونِ ملک ہوتا ہے ، تو اسے چہرہ دکھانے کے لیے تاخیر کر دی جاتی ہے وغیرہ، تو یہ مکر وہ اور ممنوع ہے۔ تفصیل اس مسئلہ کی یوں ہے کہ جب کسی شخص کے فوت ہو جانے کا یقین ہو جائے، تو شرعا حکم ہے کہ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کی جائے، بلا ضرورت تاخیر کرنا مکروہ اور ممنوع ہے، البتہ موت کا یقین ہونے ، قبر کی تیاری کرنے اور غسل و کفن وغیرہ کے ضروری انتظامات میں جو دیر لگتی ہے، اس کی اجازت ہے، اس کے علاوہ مزید تاخیر کرنا منع ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.