Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل میں ناخنوں کے نیچے والے حصے کو دھونے کا حکم ؟

Answer (beginning)

ناخنوں کو بڑھے ہوئے چالیس دن سے کم عرصہ ہوا ہو یا زیادہ، اگر ان میں میل نہ ہو تو فرض غسل کرتے ہوئے ان کے نیچے پانی بہانا ضروری ہے اور اگر ان میں میل ہو ، تو میل کو نکالناضروری نہیں ، اس کے اوپر سے پانی بہہ جائے ،تب بھی غسل ہو جائے گا۔ فتح القدیر میں ہے: ” یجب ايصال الماء الى ما تحته ان طال الظفر “ یعنی اگر ناخن بڑھے ہوئے ہوں تو ان کے نیچے پانی بہانا واجب ہے۔ (فتح القدير ج 1، ص 13 مطبوعہ کوئٹہ) قاضی خان میں ہے کہ : ” واجمعوا على ان الدرن لا يمنع تمام الغسل والوضوء لانه يتولد من ذلک الموضع “ یعنی فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جسم کا میل وضو اور غسل سے مانع نہیں کیونکہ یہ جسم کے اسی حصے سے بنتی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.