Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینک میں کمیٹی ڈالنا کیسا ؟

Answer (beginning)

سوال میں بیان کردہ کمیٹی ڈالنا ناجائز حرام اور کبیرہ گناہ ہے ، بلکہ سود ہونے کی وجہ سے اللہ عزو جل ورسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلانِ جنگ کے مترادف ہے ۔ کیونکہ بینک Contribution کے نام پر جو اضافی رقم دے رہا ہے ، در حقیقت وہ سود ہی ہے، کیونکہ بینک میں جمع شدہ رقم کی حیثیت شرعا قرض کی ہے اور قرض پر مشروط نفع بحکم حدیث سود ہے۔ سود ہے۔ چنانچہ حدیث مبارک میں ہے: ” کل قرض جرمنفعة فھو ربوا‘ترجمہ: قرض کے ذریعے جو نفع حاصل کیا جائے وہ (کنز العمال جلد 6، صفحه 238، بیروت) اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں سود کی حرمت ارشاد فرماتا ہے: (1) أَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرّبوا ترجمہ کنز العرفان: اللہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.