Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شیئرز کی خرید و فروخت اور شیئرز کے کاروبار کی حیثیت
Answer (beginning)
آپ کے سوال سے عیاں ہے کہ آپ کو شیئر ز کے کاروبار کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہیں۔ اس لیے پہلے مختصر ا آپ کا مطلوبہ جواب پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد تفصیلاً اس نظام پر کلام کیا جاتا ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مساواتی حصص کس طرح کے عقد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مختصر جواب: مساواتی شیئر ز کے ذریعہ کمپنی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں ہے اگر چہ مساواتی حصص والا نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے۔ جس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر کمپنی نے دس لاکھ روپے جمع کیے، پانچ لاکھ ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے ذریعہ، پانچ لاکھ مساواتی حصص کے ذریعہ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.