Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں آمین آہستہ آواز میں ہو یا بلند آواز میں؟

Answer (beginning)

نماز خواہ جہری ہو یا سری اور نمازی امام ہو یا مقتدی یا منفردان سب کے لیے آہستہ آواز سے آمین کہنا سنت ہے، جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”اذا فرغ من الفاتحة قال آمين و السنة فيه الاخفاء والمنفرد والامام سواء وكذا الماموم اذا سمع ترجمہ : اور جب سورہ فاتحہ سے فارغ ہو تو آمین کہے اور آمین کہنے میں سنت یہ ہے کہ آہستہ کہے اور امام، منفرد کا ایک ہی حکم ہے اور ایسے ہی مقتدی کے لئے بھی آہستہ آواز سے کہنا سنت ہے جب وہ سنے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلوۃ، ج01،ص74،مطبوعہ کوئٹہ) شیخ الاسلام امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن لکھتے ہیں: ” آمین سب کو آہستہ کہناچاہیے امام ہو خواہ مقتدی خواہ اکیلا۔ یہی سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.