Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دِہاڑی پر کام کرنا اور گھنٹے معین نہ کرنا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں زید اور عمر و کا مذکورہ طریقہ کار کے مطابق عقد اجارہ کرنا شرعاً جائز ہے۔ فقط گھنٹوں کو بیان نہ کرنے کی وجہ سے اجارے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تفصیل اس مسئلہ کی یوں ہے کہ زید اور عمرو کے درمیان طے پانے والا اجارہ وقت کا ہے، کیونکہ عقد اجارہ میں اگر وقت اور کام میں سے کسی ایک کو پہلے ذکر کر کے اس کے ساتھ اجرت بیان کر دی جائے، تو اجارہ اسی پر منعقد ہوتا ہے۔ اب پوچھی گئی صورت میں بھی چونکہ زید نے اولاً وقت ( دہاڑی ) کو ذکر کر کے اس کے ساتھ اجرت ( پانچ سو) بیان کر دی ہے، لہذا یہ اجارہ بھی وقت کا ہوا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.