Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم کے ہوٹل میں حرام چیزیں کِھلانے کی نوکری کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید کا یہ نوکری کرنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں کا کھانا پینا خو د مسلمان کے لیے ناجائز ہے، وہ چیزیں مسلمانوں کو تو درکنار، غیر مسلموں کو کھانے پینے کے لیے فراہم کرنا بھی ناجائز ہے، کیونکہ صحیح قول کے مطابق کفار بھی فروعات کے مکلف ہیں، انہیں کھانے پینے کے لیے حرام اشیاء فراہم کرناضرور گناہ پر تعاون ہے اور اللہ عزوجل نے گناہ پر تعاون کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز جب زید کو اتنا معلوم ہے کہ اس ریسٹورنٹ سے حلال کے ساتھ حرام اشیاء بھی ڈیلیور کرنی پڑتی ہیں، تو اس کام کے ناجائز ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ، ہر پیک کے متعلق الگ ، معلوم ہو ناضروری نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.