Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازی کے آگے سے گزرنے اور دائیں بائیں ہٹنے سے متعلق شرعی حکم؟
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص مکان یا چھوٹی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے آگے کوئی آڑ ( یعنی سترہ کی مقدار کوئی چیز ) نہ ہو، تو دیوار قبلہ تک نمازی کے آگے سے گزرنا، جائز نہیں ہے اور پاکستان میں موجود تمام مساجد نمازی کے آگے سے گزرنے کے اعتبار سے چھوٹی ہی ہیں، البتہ اگر کوئی شخص پہلے ہی نمازی کے آگے بیٹھا ہو اور وہ اٹھ کر دائیں بائیں چلا جائے ، تو اس کی ممانعت نہیں ہے۔ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بارے میں حدیث پاک میں ہے ”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لويعلم الماربين يدى المصلى ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خيراله من ان يمربين يديه قال ابوالنضر لا ادرى اقال اربعين يوما اوشهرااوسنة“ ترجمہ : اگر نمازی کے آگے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.