Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس کا قریبی مسجد میں جمعہ رہ جائے ، تو اب دُور کی مسجد میں جائے یا ظہر پڑھے؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ شہر میں جہاں کہیں جمعہ کی نماز ملنا ممکن ہے ، وہ شخص وہاں جائے اور جمعہ کی نماز ادا کرے اگر ایسانہ کیا ، تو گناہگار ہو گا ، البتہ اگر وہ دور والی مسجد نہ گیا اور اسی وقت ظہر کی نماز پڑھ لیتا ہے ، تو نماز ہو جائے گی، مگر ایسا کرنا حرام ہے۔ در مختار میں ہے : ” و حرم لمن لا عذر له صلاة الظهر قبلها في يومها بمصر لكونه سببا لتفويت الجمعة وهو حرام “ ترجمہ : جس کے لیے (ترک جمعہ کا کوئی عذر نہیں ہے اسے شہر میں جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کی بجائے ظہر ادا کر ناحرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ظہر پڑھنا جمعہ چھوڑنے کا سبب ہو گا اور جمعہ چھوڑ نا حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.