Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نافرمان بیٹے کو جائیداد سے عاق کرنے کی شرعی حیثیت؟

Answer (beginning)

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور فرمایا ان کو اُف تک بھی نہ کہو ، یعنی کوئی ایسا کلمہ بھی اپنی زبان پر نہ لاؤ ، جو ان پر گراں گزرے۔ حدیث مبارک میں والد کی رضا کو اللہ تعالیٰ کی رضا، والد کی ناراضی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی ارشاد فرمایا۔ والد کی نافرمانی کرنے والا ، ان پر ہاتھ اٹھانے والا ، گالیاں دینے والا سخت کبیرہ گناہ کا مر تکب ، فاسق و فاجر ، سخت عذاب الہی کا مستحق ہے، جب تک اپنے والد کو راضی نہ کرلے ، اس کا کوئی فرض، نفل بلکہ کوئی بھی نیک عمل قبول نہیں اور معاذ اللہ مرتے قت کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.