Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اُدھار میں چیز نقد قیمت سے مہنگی بیچنا کیسا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ نقد قیمت ہزار روپے والی چیز ادھار میں پندرہ سو روپے کی بیچ سکتے ہیں ، اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے ، بشر طیکہ ادھار کی مدت معین ہو اور یہ طے کر لیا جائے کہ یہ سودا نقد کیا جارہا ہے یا ادھار۔ نیز کوئی اور ناجائز شرط نہ لگائی جائے۔ نقد اور ادھار بیچنے کے متعلق کنز الدقائق میں ہے: " وصح بثمن حال و بأجل معلوم “ ترجمہ : نقد اور ادھار قیمت کے ساتھ خرید و فروخت درست ہے، بشر طیکہ ادھار کی مدت معلوم ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.