Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بولی کے ذریعے خرید و فروخت کا حکم اور جس شخص کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو ، اس کے بولی میں شامل ہونے کا حکم؟
Answer (beginning)
حقیقی طور پر بولی لگا کر چیزوں کی خرید و فروخت بالکل جائز اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ، البتہ یہ بات ضروری ہے کہ کسی طرح کے دھو کے اور جھوٹ سے کام نہ لیا جائے لیکن یہ طریقہ کہ جس کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو ، وہ اس لیے بولی لگائے تاکہ چیز کی قیمت مزید بڑھ جائے اور دوسرا شخص یعنی اصل خریدار، یہ بولی سن کر مزید اوپر کی قیمت لگائے گا، تو ایسے شخص کا بولی میں شامل ہونا دھو کہ اور ناجائز و گناہ ہے۔ عموم مارکیٹ میں ایسے لوگ دکانداروں نے رکھے ہوتے ہیں تاکہ وہ دوسروں کو پھنساتے رہیں، یہ جائز نہیں، حدیث پاک میں ایسی بولی سے منع کیا گیا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.