Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کے جانور کی کھال ذاتی استعمال میں لانے کا حکم؟
Answer (beginning)
قربانی کی کھال کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے کسی ایسی چیز سے بدلنا جائز نہیں کہ جسے ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جا تا ہو مثلاً روپیہ پیسہ ، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ، اور اگر کسی نے ایسا کر لیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے صدقہ کرے کہ یہ مال اس کے حق میں خبیث ہے۔ لہذا پو تھی گئی صورت میں زید پر لازم ہے کہ وہ اس ناجائز فعل سے توبہ کرے اور ایک ہزار روپے کسی بھی شرعی فقیر مستحق زکوۃ کی ملک کر دے تو اس صورت میں زید بری الذمہ ہو جائے گا، ورنہ شرعی فقیر کو مالک بنائے بغیر مسجد یا کسی بھی نیک مصرف میں خرچ کرنے سے زید 1 بری الذمہ نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.