Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا زبان کٹے جانور کی قربانی جائز ہے؟
Answer (beginning)
اگر قربانی کے جانور کی زبان نہ ہو یا پوری زبان یا اس کا بعض حصہ کٹا ہوا ہو ، تو اس کی قربانی کے جواز یا عدم جواز کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ چارہ کھا سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ جانور زبان کے نہ ہونے یا کٹے ہوئے ہونے کے باوجود صحیح طور پر چارہ کھا سکتا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر چارہ نہ کھا سکے، تو اس کی قربانی جائز نہیں ہو گی۔ بعض جانور زبان کے ذریعے چارہ کھاتے ہیں اور بعض دانتوں سے کھاتے ہیں، جو جانور زبان سے چارہ کھاتے ہیں، تو ظاہری سی بات ہے کہ زبان نہ ہو نا یا زبان کا کٹا ہو ا ہو نا ان کے لیے چارہ کھانے میں مخل ہو سکتا ہے، جبکہ جو جانور دانتوں سے چارہ کھاتے ہیں، اگر ان کی زبان نہ ہو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.