Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بٹیر ، تیتر ، ہدہد ، چڑیا ، بگلا ، مرغابی ، بلبل ، مور ، طوطا و دیگر چند پرندوں اور خرگوش کے حلال ہونے کے بارے میں فتویٰ

Answer (beginning)

(1) فقہ حنفی کے قواعد کی روشنی میں سوال میں ذکر کردہ تمام پرندے حلال ہیں، اس لئے کہ پرندوں کے حلال یا حرام ہونے کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ پرندہ جس کے پنجے ہوں اور وہ اُن پنجوں سے شکار بھی کرتا ہو ، تو وہ پرندہ حرام ہو گا اور جس کے پنجے ہی نہ ہوں یا پنجے تو ہوں ، لیکن وہ اُن سے شکار نہ کرتا ہو، تو وہ پرندہ حلال ہے ، اس تفصیل کے مطابق دیکھا جائے، تو سوال میں ذکر کیے گئے بعض پرندوں کے پنجے ہی نہیں ہیں جیسے بلخ و شتر مرغ و غیرہ اور بقیہ بعض کے اگر چہ پنجے ہیں، لیکن وہ اُن سے شکار نہیں کرتے جیسے طوطا و غیرہ، لہذا ان میں سے کوئی پرندہ حرام نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.