Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طواف کے دوران نماز کا وقت ہو جائے تو کیا کریں؟

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں طواف کرنے والے نے اگر پہلے چار پھیروں سے کم کیے تھے، تو اب اسے اختیار ہے ، چاہے تو وہیں سے طواف شروع کرے جہاں چھوڑا تھا اور چاہے تو نئے سرے سے طواف کرے لیکن افضل اور مستحب یہی ہے کہ نئے سرے سے طواف کرے، ہاں اگر چار یا اس سے زیادہ پھیرے کر لیے تھے ، تو اب طواف جہاں چھوڑا تھا، اسی کو مکمل کرے۔ چنانچہ مناسک ملا علی قاری میں طواف کے مستحبات کے باب میں ہے: ”واستئناف الطواف 66 لوقطعه ای ولو بعذر، والظاهرانه مقيد بما قبل اتیان اکثره “ جب طواف کو درمیان میں چھوڑ دیا اگر چہ کسی عذر کے سبب ، تو نئے سرے سے طواف کرنا (مستحب ہے ) ، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم طواف کے اکثر پھیرے کرنے سے پہلے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.