Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے دوران نفلی روزے کی نیت کی، تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
نماز فجر پڑھتے ہوئے نفلی روزے کی نیت کر نا اگر چہ درست ہے ، لیکن افضل یہ ہے کہ جس عبادت میں مصروف ہو ، اسی کی طرف خشوع و خضوع کے ساتھ متوجہ رہے ،اس سے ہٹ کر کسی دوسری طرف مشغول نہ ہو۔ شریعت کا اصول ہے کہ دورانِ نماز جس دوسری عبادت کی نیت کی جائے ، اگر تو وہ دوسری عبادت ایسی ہو کہ اس کی نیت کے ساتھ کوئی متصل عمل کرنا ضروری نہ ہو ، تو ایسی عبادت کی نیت درست ہو جائے گی اور اگر نیت کے ساتھ متصل عمل ضروری ہو ، تو نیت درست نہیں ہو گی اور عمل کی صورت میں نماز ہی باطل ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.