Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
راستے کی کیچڑ کا حکم
Answer (beginning)
01 ور خصت ہے، اگر چہ کپڑے اس سے بھر جائیں۔۔ میں (علامہ شامی) کہتا ہوں: یہ معافی اسی صورت میں ہے، جبکہ اُس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔ (رد المحتار، ج 1، ص 583، مطبوعہ پشاور) صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”راستہ کی کیچڑ پاک ہے ، جب تک اس کا نجس ہو نا معلوم نہ ہو، تو اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نماز پڑھ لی، ہوگئی، مگر دھولینا بہتر ہے۔“ ہو (بهار شریعت،ج1، حصه 2،ص394،مکتبۃ المدینه، کراچی) علامہ ابو بکر کا سانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ” لا ینجس بالشک “ترجمہ : شک کی بنیاد پر کوئی چیز نجس نہیں سکتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.